ابنا: گذشتہ کئی دنوں سے قطیف اورعوامیہ سمیت سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں ظالم حکمرانوں کےخلاف احتجاج اور مظاہروں کاسلسلہ جاری ہے۔سعودی مظاہرین نےآل سعودکی ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کرتےہوئے ملک میں امتیازی سلوک کےخاتمےاور سیاسی قیدیوں کی آزادی کامطالبہ کیا۔گذشتہ برس سےاب تک سعودی عرب کےبعض علاقوں میں حکومت کےخلاف مظاہرےہوتےرہےہیں جن میں دسیوں مظاہرین اورسیاسی وسماجی کارکنوں کوگرفتارکیاجاچکاہے۔ جبکہ بعض رپورٹوں سےپتہ چلتاہے کہ اس وقت سعودی جیلوں میں تیس ہزارسےزیادہ سیاسی قیدی کال کوٹھریوں میں بند ہیں۔سعودی عرب کےجابرانہ شاہی نظام کےخلاف اس ملک میں عوامی مظاہروں کےساتھ ہی یونیورسٹیوں میں بھی کھلےعام مظاہرےشروع ہوگئےہيں۔ان حالات میں سعودی عرب کی حکومت نےجومظاہروں کاسلسلہ پورےملک میں شروع ہوجانےسےخوف زدہ ہے، مظاہرین پرتشدد کاسلسلہ تیزکردیاہے ۔تازہ ترین اقدامات کےتحت سعودی سیکورٹی اہلکاروں نےاس ملک کےمشرقی علاقوں بالخصوص القطیف اور عوامیہ شہروں کےعوام کےگھروں پر اندھادہندفائرنگ کی ہے۔سعودی عرب کےپاس تیل اورگیس کےعظیم ذخائرموجودہيں اوراس خداداد نعمت کےنتیجے میں حاصل ہونےوالی دولت کی تقسیم عوام کےدرمیان منصفانہ نہیں ہورہی ہے ۔ باوجود اس کےکہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد پندرہ سےبیس فیصدہے لیکن انھیں ملک کےدوسرے طبقات کےمساوی حقوق حاصل نہيں ہیں ۔سعودی عرب میں شہری آزادی حاصل نہ ہونا اورسیاسی وسماجی تنظیموں کی کسی قسم کی فعالیت وسرگرمی پرپابندی نے عوام کےاندر شدید بیچینی اورغم وغصہ پیدا کررکھاہے۔سعودی عرب میں ہرطرح کی صدائےاحتجاج یاتنقید کو بری طرح کچل دیاجاتاہے۔ ریاض کےحکمرانوں پرکسی طرح کی تنقید کرنےوالےکویا گرفتارکرکےلمبےعرصےتک جیلوں میں ڈال دیاجاتاہے یا قتل کردیاجاتاہے۔سعودی عرب کے حکام اس طرح کی ٹارگٹ کلنگ کااب تک انکارکرتےرہےہيں لیکن عوامیہ کےعلاقےميں سیاسی کارکن کی ٹارگٹ کلنگ کےشواہد موجود ہیں۔ سرگرم سعودی کارکن محمدصالح الزنادی ابھی کچہ ہی دنوں پہلے آل سعود کی فائرنگ کےنتیجےمیں شہیدہوئےہيں ۔ اس واقعے کےنتیجےمیں سعودی حکام کےخلاف عوام میں شدیدغم وغصہ پیداہوگیاہے اورسعودی عرب کےبعض علاقوں میں گذشتہ دنوں ہونےوالےمظاہروں کاتسلسل اس بات کاثبوت ہے کہ عوام کےدل سےآل سعود کاخوف نکل چکاہے جوسعودی حکام کےلئے خطرےکی گھنٹی کےمترادف ہے۔ .....
/169